بلیو بیری کئی بیماریوں سے بچانے کی صلاحیت رکھتی ہے

لندن: بیریاں قدرت کا بہترین خزانہ ہیں اور ان میں بلیو بیری کسی نعمت سے کم نہیں۔ جس طرح سیب ہمیں بیماریوں سے بچاتے ہیں عین اسی طرح بلیو بیری ہمیں کئی امراض سے دور رکھتی ہیں۔ان میں سب سے اہم امراضِ قلب ہیں جو برق رفتاری سے پوری دنیا میں پھیل رہے ہیں۔ لوگ بلیو بیری کو دلیے میں ملاکر کھاتے ہیں اور دہی میں ڈبو کر نوش کرتے ہیں۔ لیکن اسے عام بیری کی طرح بھی کھایا جاسکتا ہے۔یونیورسٹی آف سرے نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ بلیو بیری کا باقاعدہ استعمال بلڈ پریشر کےلیے مفید ہے اور امراضِ قلب کو دور کرتا ہے۔ پاکستان کی طرح دنیا بھر میں امراضِ قلب کی شرح بہت تیزی سے بلند ہورہی ہےاور بلیو بیری اس کیفیت کو دور کرتی ہے۔بلیو بیری میں اینتھوسائنائن کی بھرمار ہوتی ہے جو سرخ، جامنی اور بلیو بیریوں میں عام پائے جاتے ہیں۔ اینتھوسائنائن ایک جادوئی غذائی جزو ہے جو دل کی بھرپور حفاظت کرتا ہے۔ دوسری جانب جرنل آف گیرنٹولوجی میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلیو بیری میں موجود اجزا شریانوں اور خون کی رگوں کو منظم رکھتے ہیں۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ بلیوبیری کھانے سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔اگر بلیوبیری کا شربت بنا کر پیا جائے تو اس سے زیادہ فائدہ ہوگا۔ اس سے خون کی شریانیں کھلتی ہیں اور پورے نظام کو بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس طرح دل اور دیگر اعضا تک خون کا بہاؤ بہتر ہوتا ہے۔ایک اور ماہر رونالڈ اسمتھ کہتےہیں کہ بلیوبیری میں کئی اقسام کے بہترین اینٹی آکسیڈنٹس ہوتے ہیں۔ یہ سرطان کا خطرہ کم کرتے ہیں، ان سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے اور اندرونی جسمانی سوزش کم ہوجاتی ہے۔

Comments (0)
Add Comment