محکمہ صحت عامہ کی خریداریوں میں کروڑوں کے گھپلوں کا انکشاف

مظفرآباد( نمائندہ خصوصی)محکمہ صحت عامہ کی خریداریوں میں کروڑوں کے گھپلوں کا انکشاف۔ گڈگورننس کی دعویدار حکومت کی جانب سے اس معاملے سے چشم پوشی حیرتناک ہے۔ آزاد کشمیر میں پبلک پروکیورمنٹ کے قواعد کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے لیکن عملی طور پر ان کے مطابق کام نہی ہو رہا۔سابقہ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کیجانب سے مشینری کی خریداری کے لئیے قائم کردہ کمیٹی کی جانب سے تین فرموں کو پی سی ون سے بھی ہزار گنا زائد قیمت پر ٹیکنکل منظوری دے دی گئی ہے۔ سابق ڈی جی ہیلتھ کےمبینہ طور پر فرنٹ مین طاہر عزیز نے اپنے قریبی ساتھی سعید خلیل کو جو سی ایم ایچ مظفرآباد میں بوائلر پر ڈیوٹی دے رہا تھا اسے ٹیکنکل کمیٹی میں بطور انجینئر شامل کروایا اور تمام اختیارات اس کے سپرد کر دئیے گئے موصوف نے کئی بڑی فرموں کو ٹیکنکلی نا موزوں قرار دے کر صرف تین فرموں کو آرڈرز جاری کرنے کی تیاری کر رکھی ہے۔ چیزوں کی اصل مالیت سے ہزار گنا زیادہ ریٹ لگا کر یہ خریداریاں کی جا رہی ہیں جس سے محکمہ صحت کا خطیر بجٹ کرپشن کی نظر ہو جائے گا۔طاہر عزیز کا تبادلہ راولاکوٹ کیا گیا تھا لیکن اب بھی بائیو میٹرک حاضری اور پابندی کے باوجود وہ روز مظفرآباد ڈی جی آفس سعید خلیل کی معاونت کے لئے موجود رہتا ہے۔ یوں لگتا ہے اس نے سارا محکمہ ہی ٹھیکے پر لے رکھا ہے۔سابقہ ED ایمز ڈاکٹر مسعود بخاری نے بھی زیادہ ریٹس ہونا کی وجہ سے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا جو کے مالیاتی کمیٹی کے چیئرمین تھے انہوں نے ppra رولز کے کھلمکھلا خلاف ورزی پراپنےتحفظات سے ساری کمیٹی کو آگاہ کر دیا تھاطاہر عزیز اور سعید خلیل اپنی دو نمبری کو چھپانے کے لئیے اب اوچھے ہتکھنڈے استعمال کر رہے ہیں جبکہ ساری صورتحال سے آگاہی کے باوجود اعلی حکام کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے

Comments (0)
Add Comment