انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہوئے تو شکست خوردہ پھر احتجاجی سیاست شروع کردیں گے چوہدری سرور

دبئی ( راجہ اسد خالد ) سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر عام انتخابات ہوئے تو شکست خوردہ پھر احتجاجی سیاست شروع کردیں گے۔

سابق گورنر پنجاب دبئی میں پریس کانفرنس کررہے تھے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے تجویز دی کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مشاورت کے ساتھ انتخابی اصلاحات کرنی چاہئے ورنہ عام انتخابات کے بعد نئے تنازعات جنم لیں گے۔ پریس کانفرنس میں پاکستانی بزنس مین ملک منیر اعوان اور ہاکستان کے سابق ہاکی اولمپئن جعفر حسین بھی موجود تھے۔

سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان میں ہی مقابلہ کرنا ہوگا البتہ چوہدری سرور نے موجودہ حکومت کو مشورہ دیا کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے جلد از جلد سخت فیصلے کریں۔ انھوں نے کہا بین الاقوامی مارکیٹ کے مطابق پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ سابق گورنر پنجاب نے تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کی معاشی پالیسوں کو بھی ہدف تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا غلط معاشی اقدامات کی وجہ سے ملک دیوالیہ کے قریب پہنچا ہے۔

سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی گرفتاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، چوہدری محمد سرور نے کہا کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں اور پہلے بھی سیاسی انتقامی کارروائیوں کے خلاف رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کوئی سیاسی جماعت کسی دوسری سیاسی پارٹی کو ختم نہیں کرسکتی ۔ چوہدری محمد سرور نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی سیاسی حقیقت ہیں اور مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمن بھی ایک مسلمہ حقیقت ہیں، انتقامی کارروائیوں سے سیاسی حقیقتیں مٹ نہیں جاتیں۔

سابق گورنر پنجاب نے کہا کہ سیاسی گھتیاں عدالتوں کے بجائے سیاست دانوں کو خود سلجھانی چاہیں اور عدالتوں کو عوامی مسائل کے حل کرنے میں وقت صرف کرنا چاہئے مگر ایسا نہیں ہورہا ہے۔

چوہدری سرور نے عمران خان سے اختلافات کی وجہ کے بارے میں سوال کے جواب میں کہا کہ گورنر کا عہدہ آئینی ہوتا ہے اس کو مروجہ قوانین کے مطابق ہی چلایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آئین سے ماورا اقدامات سے ملکی نظام مفلوج ہوجائے گا۔ انھوں نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ 31 مارچ کو وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا استعفی آیا اور انھوں نے اسی دن ہی قبول کیا اور دو اپریل کو پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا مگر استعفی سے پہلے استعفی قبول نہیں کیا جاسکتا۔

سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے موجودہ وزیرخارجہ بلاول بھٹو کی دلیرانہ سیاست کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کا کوئی فرد سیاسی میدان میں شہید ہوجائے تو وہ سیاسی میدان کا رخ نہ کرے مگر بلاول بھٹو زرادری کا پورا گھرانہ قتل کیا جاچکا ہے، پھر بھی وہ بڑی سمجھداری سے سیاسی میدان میں آگے بڑھ رہا ہے۔